سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْغَنِيِّ الَّذِي يُحْرَمُ السُّؤَالَ باب: وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
حدیث نمبر: 2000
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ اللَّبَّانِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيرَةُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْغِنَى ؟ قَالَ : " خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ " . ابْنُ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا ہے، جب وہ قیامت کے دن آئے گا، تو اس کے چہرے پر داغ ہو گا (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! خوشحالی سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔“ ابن اسلم نامی راوی ضعیف ہے۔