سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ الْغَنِيِّ الَّذِي يُحْرَمُ السُّؤَالَ باب: وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
حدیث نمبر: 1999
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ظَهْرُ الْغِنَى ، قَالَ : " عَشَاءُ لَيْلَةٍ " . عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود کچھ مانگتا ہے، وہ اس عمل کے ذریعے جہنم کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! خوشحالی سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رات کا کھانا میسر ہونا۔“ عمر بن خالد نامی راوی متروک ہے۔