حدیث نمبر: 1997
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ جَمِيعًا ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ : الْعَامِلِ عَلَيْهَا ، وَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْغَارِمِ ، أَوِ الرَّجُلِ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لِغَنِيٍّ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”خوشحال شخص کے لیے کسی سے کچھ مانگنا جائز نہیں ہے، صرف پانچ آدمیوں کا حکم مختلف ہے: ایک وہ شخص، جو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے مقرر ہو، ایک اللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہونے والا نمازی، ایک وہ شخص، جس نے قرض ادا کرنا ہو، ایک وہ شخص، جس نے اپنے مال میں سے اسے خریدا، ایک وہ مسکین، جسے صدقہ کیا گیا اور پھر وہ کسی خوشحال کو ہدیے کے طور پر دے دے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 555، وابن الجارود فى "المنتقى"، 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2368، 2374، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1485، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1635، 1637، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1841، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1997، 1998، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11440»
«قال ابن حجر: وصححه جماعة ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 237)»