حدیث نمبر: 1996
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ ، أَوْ إِذَا جَاءَتْ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا قَبِيصَةُ ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلا لِثَلاثَةٍ : رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ مُرَّةَ : حَتَّى تَكَلَّمَ ، ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَهُ فَقْرٌ وَحَاجَةٌ ، فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَجِدَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ ، فَحُلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهِيَ سُحْتٌ " .
محمد محی الدین

سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک ادائیگی کرنا تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تاکہ اس بارے میں آپ سے مدد مانگوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم تمہاری طرف سے ادائیگی کر دیں گے اور صدقے کے اونٹوں میں سے اسے نکال دیں گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب صدقے کے اونٹ آئیں گے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے قبیصہ! مانگنا حرام ہے، صرف تین لوگ مانگ سکتے ہیں: ایک وہ شخص، جس نے کوئی ادائیگی کرنی ہو، اس کے لیے مانگنا جائز ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ادائیگی کو ادا کر دے اور پھر اس کے بعد رک جائے، ایک وہ شخص، جسے شدید ضرورت اور فاقہ لاحق ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد اس بات کی گواہی دیں (یہاں پر راوی کو شک ہے، شاید یہ لفظ ہے) یہ بات بیان کریں کہ اسے ایسا فاقہ اور ضرورت لاحق ہوئی ہے، تو ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے، اور ایک وہ شخص، جسے آفت لاحق ہو اور وہ اس کے مال کو ضائع کر دے، ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائے، پھر اس کے بعد رک جائے، اس کے علاوہ مانگ کر جو بھی لیا جائے گا، وہ حرام ہو گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1996
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1044، وابن الجارود فى "المنتقى"، 404، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2359، 2360، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2580، 2581، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2371، 2372، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1640، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1720،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1995، 1996، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 838، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 500، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16161»