سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ بَيَانِ مَنْ يَجُوزُ لَهُ أَخْذُ الصَّدَقَةِ باب: کس شخص کے لیے زکوۃ وصول کرنا جائز ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي حَمَالَةٍ ، فَقَالَ : " أَقِمْ عِنْدَنَا ، فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَصْلُحُ إِلا لأَحَدِ ثَلاثَةِ رِجَالٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ عَنْ قَوْمٍ حَمَالَةً فَسَأَلَ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذْهَبَتْ مَالَهُ ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى أَوْ مِنْ ذَوِي الصَّلاحِ فِي قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا يَا قَبِيصَةُ " .سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حمالہ کے لیے مدد مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے پاس ٹھہرے رہو، یا ہم تمہیں حمالہ کے لیے کچھ دے دیں گے، یا ویسے تمہاری مدد کر دیں گے، یہ بات یاد رکھنا کہ مانگنا کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے، صرف تین طرح کے لوگ دوسروں سے کچھ مانگ سکتے ہیں: ایک وہ شخص، جس نے کچھ لوگوں کو ادائیگی کرنی ہو اور پھر وہ کسی سے مانگے، جب وہ اس ادائیگی کو کر دے، تو پھر کچھ نہ لے، ایک وہ شخص، جس (کی پیداوار کو) کوئی آفت لاحق ہو جائے اور وہ اس کے مال کو ضائع کر دے، وہ شخص مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا سامان ہو جائے (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)، پھر اس کے بعد وہ شخص رک جائے، اور ایک وہ شخص، جسے کوئی شدید ضرورت لاحق ہو، یہاں تک کہ تین سمجھ دار (یہاں راوی کو شک ہے) افراد، جو اس کی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، وہ یہ گواہی دیں کہ اب اس شخص کے لیے مانگنا جائز ہو چکا ہے (تو صرف یہی لوگ مانگ سکتے ہیں)، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہو گا، اسے لینے والا شخص حرام کے طور پر اسے کھائے، اے قبیصہ!“