سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ باب: خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ ، أَخْبَرَنِي رَجُلانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلانِهِ مِمَّا بِيَدَيْهِ مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَرَفَعَ فِيهِمَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآهُمَا جَلِدَيْنِ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا ، وَلا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ " .عبیداللہ بن عدی بیان کرتے ہیں: دو صاحبوں نے مجھے یہ بات بتائی، دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حجۃ الوداع پر حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو زکوٰۃ کا مال موجود تھا، اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر ان دونوں کا جائزہ لیا، آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ دونوں طاقت ور اور توانا ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو میں تم دونوں کو اس میں سے دے دیتا ہوں، ویسے کسی خوشحال شخص اور کمانے کی صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے اسے دینا جائز نہیں ہے۔“