حدیث نمبر: 1988
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ يُعْرَفُ بِوَلِيدِ مِصْرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ ، فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ : " مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَكْفَ كَفَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " . فَقُلْتُ : نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن ابوسعید اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری والدہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بے نیاز رہنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو شخص پاک دامن رہنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پاک دامنی نصیب کرتا ہے، جو شخص کفایت حاصل کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے کفایت نصیب کرتا ہے، جو شخص کسی دوسرے سے کوئی چیز مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) کی قیمت موجود ہو، تو اس نے زیادتی کی۔“ (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں): میں نے سوچا کہ میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے مہنگی ہے، تو میں واپس آ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1988
درجۂ حدیث محدثین: عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «عند الشواهد الحديث صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2447، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3390، 3398، 3399، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2589 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1628، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13333، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1988، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11145»
«وله شواهد من حديث حكيم بن حزام، وحديث أبي سعيد الخدري، فأما حديث حكيم بن حزام، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1427، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15560»
«، وأما حديث أبي سعيد الخدري، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1469، 6470، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1053»