سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ باب: خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِيُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ يُعْرَفُ بِوَلِيدِ مِصْرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَرَّحَتْنِي أُمِّي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ ، فَاسْتَقْبَلَنِي وَقَالَ : " مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَكْفَ كَفَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ " . فَقُلْتُ : نَاقَتِي الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.عبدالرحمن بن ابوسعید اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری والدہ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا، آپ نے میری طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا: ”جو شخص بے نیاز رہنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو شخص پاک دامن رہنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پاک دامنی نصیب کرتا ہے، جو شخص کفایت حاصل کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے کفایت نصیب کرتا ہے، جو شخص کسی دوسرے سے کوئی چیز مانگے، حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) کی قیمت موجود ہو، تو اس نے زیادتی کی۔“ (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں): میں نے سوچا کہ میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے مہنگی ہے، تو میں واپس آ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا۔