سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ باب: اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَاتِ ، فَوَجَدَهُ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الصَّدَقَاتِ ، وَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابَ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا : " فِي صَدَقَةِ الإِبِلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لا يَبْلُغُ الْعُشْرَ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْعُشْرَ " .محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے مدینہ منورہ پیغام بھیجا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس سے تعلق رکھنے والا زکوٰۃ کے بارے میں کوئی حکم نامہ تلاش کریں، تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس وہ حکم نامہ مل گیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا، جو زکوٰۃ کے بارے میں تھا، اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ مکتوب مل گیا، جو انہوں نے زکوٰۃ کے بارے میں اپنے اہل کاروں کو لکھا تھا اور یہ اس کے مطابق تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکتوب میں تحریر ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے اہل کاروں کو زکوٰۃ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ ان دونوں مکتوبات کی روشنی میں وصول کریں۔ اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں ان دونوں میں یہی بات تحریر تھی کہ اگر ان کی تعداد نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ایک سو بیس تک ہے، اگر وہ ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ایک سو تینتیس تک ہے، جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو جائے گی، تو اگلے دس ہونے تک کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ اگلا دس کا ہدف پورا ہو جائے۔