حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ فِي الصَّدَقَةِ وَهُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ، ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامُ بْنُ هَانِئٍ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامِلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَمَرَهُمْ وَمَعْنَاهُ بِهَا ، وَلا يَتَعَدُّونَهَا . وَهَذَا كِتَابُ تَفْسِيرِهَا : " لا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا ، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلاثَ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ ، فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاثِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ ثَلاثِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلاثِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنِينَ وُجِدَتْ فِيهَا أُخِذَتْ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ فِي الإِبِلِ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ ، وَلا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلاثَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الثَّلاثِمِائَةِ بِشَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلا ثَلاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ، ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةُ شَاةٍ شَاةٌ " .
محمد محی الدین

ابن شہاب بیان کرتے ہیں: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا نسخہ ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کے بارے میں تحریر کیا تھا، ابن شہاب بیان کرتے ہیں: سالم بن عبداللہ بن عمر نے یہ مجھے پڑھ کر سنایا اور میں نے اسے اسی طرح محفوظ کر لیا، یہ وہی نسخہ ہے، جس کی ایک نقل عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے لی تھی، جب انہیں مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے اپنے سرکاری اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہی لکھ کر ولید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا تھا، ولید نے بھی اپنے اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد خلفاء اس کے مطابق حکم دیتے رہتے تھے، پھر ہشام بن ہانی کے حکم کے تحت اس کی نقل ہر مسلمان اہلکار تک پہنچا دی گئی، اس نے اس پر موجود احکام پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا اور یہ ہدایت کی کہ وہ اس سے تجاوز نہ کریں۔ یہ تحریر اس کی وضاحت کرتی ہے: ”اونٹ میں زکوٰۃ کی ادائیگی اس وقت لازم ہو گی، جب ان کی تعداد پانچ ہو جائے، جب وہ پانچ ہو جائیں گے، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ دس ہو جائیں، جب وہ دس ہو جائیں گے، تو ان پر دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ پندرہ ہو جائیں گے، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد بیس ہو جائے، اور جب وہ بیس ہو جائیں گے، تو ان پر چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ وہ ٢٥ ہو جائیں، جب وہ ٢٥ ہو جائیں گے، تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، اگر بنت مخاض نہ مل سکے، تو مذکر ابن لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٣٥ ہو جائے۔ جب ان کی تعداد ٣٦ سے ٤٥ تک ہو، تو ان کے اندر ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٤٦ سے ٦٠ تک ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے، ٦١ سے ٧٥ تک میں اسے ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٷ٦ سے ٩٠ تک میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ٩١ سے ١٢٠ تک میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ ١٢١ سے ١٢٩ تک میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٣٠ سے ١٣٥ تک میں ایک حقہ اور دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، ١٤٠ تک میں دو حقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٤٩ ہو جائے، جب ان کی تعداد ١٥٠ ہو جائے، تو ان میں تین حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٥٩ ہو جائے، جب ان کی تعداد ١٦٠ ہو جائے گی، تو ان میں چار بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، ١٦٩ تک میں یہی حکم ہے، جب ان کی تعداد ١٧٠ ہو جائے گی، تو ان میں ایک جذعہ اور تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٧٩ تک میں ہے، جب ان کی تعداد ١٨٠ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ اور دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٨٩ تک ہے، جب ان کی تعداد ١٩٠ ہو جائے، تو ان میں تین حقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٩٩ تک ہے، جب ان کی تعداد ٢٠٠ ہو جائے، تو ان میں چار حقہ یا پانچ بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، خواہ دونوں میں سے جو بھی ہو، جو بھی تمہیں ملے گا، تم اسے وصول کر لو گے، اس گنتی کے مطابق جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کیا ہے۔ اس کے بعد اونٹوں کی تمام قسموں میں اس کے مطابق وصولی کی جائے گی، جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کر دیا ہے۔ بکریوں میں زکوٰۃ اس وقت وصول نہیں کی جائے گی، جب تک ان کی تعداد ٤٠ نہ ہو جائے، جب ان کی تعداد ٤٠ ہو جائے گی، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ١٢٠ بکریاں ہونے تک ہے، جب ان کی تعداد ١٢١ ہو جائے گی، تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ٢٠٠ کی تعداد ہے، جب ان کی تعداد ٢٠١ ہو جائے گی، تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہ حکم ٣٠٠ تک ہے، جب ان کی تعداد ٣٠٠ سے زیادہ ہو جائے گی، تو ٤٠٠ تک میں صرف تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، جب ان کی تعداد ٤٠٠ ہو جائے گی، تو اس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم پانچ سو کی تعداد تک ہے، جب ان کی تعداد ٥٠٠ تک ہو گی، تو ان میں ایک مزید بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ٦٠٠ تک ہے، جب ان کی تعداد ٧٠٠ تک ہو جائے، تو ان میں ٧ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٨٠٠ ہو جائے، جب ان کی تعداد ٨٠٠ ہو جائے گی، تو ٨ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ٩٠٠ ہو جائے گی، جب ان کی تعداد ٩٠٠ ہو جائے گی، تو ان میں ٩ بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٠٠٠ ہو جائے، جب ١٠٠٠ بکریاں ہو جائیں گی، تو ان میں دس بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی، پھر اس کے بعد جو بھی تعداد زیادہ ہو گی، ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی (بطور زکوٰۃ) لازم ہو گی۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1986
درجۂ حدیث محدثین: عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «عند الشواهد الحديث صحيح ، أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2267، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1447، 1448، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1568، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 621، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1660، 1666، 1667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1798، 1805، 1807 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1983، 1986، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4722»
«قال الشيخ الألباني: صحيح، أبو داود : 1568»