حدیث نمبر: 1984
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ فِي آخَرِينَ ، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قَالُوا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ " هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلا يُعْطِهِ ، فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ تَيَسَّرْنَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يَقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلا أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ ، وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِمِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ ، وَلا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ ، وَلا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشُورِ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالُهُ إِلا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهِ صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " . وَقَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثِهِ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقِ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ ، وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ ، وَرَسُولٌ سَطْرٌ ، وَاللَّهُ سَطْرٌ ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، الَّتِي أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا اور انہیں یہ تحریر لکھ کر دی۔ یہ زکوٰۃ کے بارے میں حکم نامہ ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا تھا۔ جس مسلمان سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، وہ اس کی ادائیگی کر دے۔ جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، وہ ادائیگی نہ کرے۔ 24 تک یا اس سے کم میں بکریوں کی ادائیگی کی جائے گی، جن میں سے ہر پانچ کے عوض ایک بکری دی جائے گی۔ جب وہ 25 ہوں، تو 35 تک ایک بنت مخاض مونث کی ادائیگی کی جائے گی۔ جب وہ 36 سے لے کر 45 تک ہوں، تو ان میں ایک بنت لبون مونث کی ادائیگی کی جائے گی۔ 46 سے 60 تک ایک حقہ کی ادائیگی کی جائے گی، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد 61 سے 75 تک ہو، تو ان میں جذعہ کی ادائیگی ہو گی۔ جب ان کی تعداد 76 سے 90 تک ہو، تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی ہو گی۔ جب ان کی تعداد 91 سے 120 تک ہو، تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی ہو گی، جنہیں جفتی کے لیے دیا جا سکے۔ جب ان کی تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر اونٹوں کی عمر اس سے مختلف ہو جس کی ادائیگی زکوٰۃ میں لازم ہوتی ہے، تو جس شخص نے جذعہ زکوٰۃ میں ادا کرنا ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو، بلکہ حقہ موجود ہو، تو اس سے حقہ وصول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ دو بکریاں لی جائیں گی، اگر وہ آسانی سے دے سکتا ہے، یا پھر بیس درہم لیے جائیں گے۔ جس شخص نے حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس حقہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پاس جذعہ تھا، اس سے جذعہ وصول کیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا۔ جس شخص نے زکوٰۃ میں حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس صرف بنت لبون موجود ہو، تو اس سے بنت لبون وصول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں دے گا یا بیس درہم دے گا۔ جس شخص نے بنت لبون زکوٰۃ میں ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہیں تھی، بلکہ اس کے پاس حقہ موجود تھا، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرنے والے شخص سے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا۔ جس شخص نے بنت لبون ادا کرنی تھی اور اس کے پاس وہ نہیں ہو اور اس کے پاس بنت مخاض موجود ہو، تو اس سے بنت مخاض قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ اسے بیس درہم دیے جائیں گے یا دو بکریاں ادا کی جائیں گی۔ جس شخص نے بنت مخاض ادا کرنا تھی اور اس کے پاس وہ نہ ہو، بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اسے اس سے لے لیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا۔ اگر اس شخص کے پاس بنت مخاض نہ ہو، بلکہ اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو، تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں لی جائے گی۔ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، (البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو ادائیگی کر سکتا ہے)۔ جب اونٹوں کی تعداد پانچ ہو جائے گی، تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ اس طرح بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جب ان کی تعداد 40 سے 120 تک ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو 200 تک دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ جب تعداد 200 سے زیادہ ہو جائے، تو 300 تک تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی۔ جب تعداد 300 سے زیادہ ہو جائے، تو ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو جائے گی۔ زکوٰۃ میں ٹوٹے ہوئے سینگ والی، کانی، لنگڑی بکری قبول نہیں کی جائے گی، (البتہ اگر صدقہ وصول کرنے والا چاہے، تو ایسے کسی جانور کو قبول کر سکتا ہے)۔ اور زکوٰۃ سے بچنے کے لیے الگ الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا۔ جو چیز دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابر کی بنیاد پر وصول کی جائے گی۔ اگر کسی شخص کی بکریاں 40 سے ایک بھی کم ہوں، تو ان پر زکوٰۃ کی ادائیگی واجب نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ غلاموں میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہو گی۔ اگر کسی شخص کے مال میں صرف 190 (درہم) ہوں، تو ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے، تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے۔ یوسف رحمہ اللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر انہیں اس وقت لکھ کر دی تھی، جب انہیں بحرین بھیجا تھا (اس میں یہ الفاظ ہیں): اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت (کا حکم نامہ) ہے۔ فضل رحمہ اللہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا اور انہیں یہ تحریر لکھ کر دی اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر مبارک پر یہ الفاظ کندہ تھے: لفظ محمد ایک سطر میں، لفظ رسول ایک سطر میں اور لفظ اللہ ایک سطر میں۔ یہ زکوٰۃ کی فرضیت کا حکم نامہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے، جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1984
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1448، 1450، 1451، 1453، 1454، 1455، 2487، 6955،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2261، 2273، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3266، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1445، 1446، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449، 2457، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2239، 2247، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1567، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1984، 1985، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 73»
«قال البيهقي: حديث صحيح موصول إلا أن بعض الرواة قصر به ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 335)»