سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ باب: اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ قَوْهِيٍّ بِالْمِفْتَحِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولابِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : وَجَدْنَا فِي كِتَابِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي صَدَقَةِ الإِبِلِ فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ ، وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ شَاتَانِ ، وَفِي خَمْسَةَ عَشَرَ ثَلاثُ شِيَاهٍ ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ جَذَعَةٌ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ " . كَذَا رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تحریر میں یہ بات پائی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، دس اونٹوں میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، بیس میں چار کی ادائیگی لازم ہو گی، پچیس بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر جب وہ زیادہ ہو جائیں، تو ان میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی، اگر وہ نہ ملے، تو ایک ابن لبون کی ادائیگی لازم ہو گی جو نر ہو، ١٣٣ اونٹوں تک یہی لازم ہو گا، اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں ٤٥ تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، پھر اگر وہ ایک بھی زیادہ ہو جائے، ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ساٹھ تک یہی حکم چلے گا، پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، ٧٥ تک یہی حکم ہے، پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ان میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، یہ حکم ١٢٠ اونٹوں تک ہے، اگر ان سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ہر چالیس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہو گی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ سلمان بن ارقم نامی راوی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے اور متروک ہے۔