سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ اسْتِقْرَاضِ الْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ باب: یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَابْنَتُهَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " هَلْ تُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا ؟ " ، قَالَتْ : لا ، قَالَ : " فَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسُوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ؟ " ، قَالَ : فَخَلَعَتْهُمَا ، وَقَالَتْ : هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ .عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنی صاحبزادی کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ہاتھ میں سونے سے بنے ہوئے دو کنگن تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اس کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ بات پسند کرو گی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: اس نے ان دونوں کو اتار دیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذر ہیں۔“