سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ اسْتِقْرَاضِ الْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ باب: یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
حدیث نمبر: 1980
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ عَلِيًّا زَكَّى أَمْوَالَ بَنِي أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ ، فَقَالُوا : إِنَّا وَجَدْنَاهَا بِنَقْصٍ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَتَرَوْنَ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مَالٌ لا أُزَكِّيهِ ؟ " .محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کی اولاد کے مال کی زکوٰۃ ادا کی تھی، راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ مال ان لوگوں کے سپرد کیا، تو ان لوگوں نے اس مال کو کم پایا، ان لوگوں نے کہا: ”ہمیں یہ مال کم لگا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرے پاس کوئی مال ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہ کروں گا۔“