حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَتْ أَمْوَالُهُمْ عِنْدَ عَلِيٍّ ، فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ فَحَسَبُوهَا مَعَ الزَّكَاةِ ، فَوَجَدُوهَا تَامَّةً ، فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالَ : " كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مَالٌ لا أُزَكِّيهِ " .
محمد محی الدین

ابن ابورافع بیان کرتے ہیں: ان لوگوں کے اموال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اموال انہیں واپس کیے، تو ان لوگوں نے ان میں کچھ کمی پائی، پھر جب انہوں نے زکوٰۃ کے ساتھ اس کا حساب کیا، تو انہیں مکمل پایا۔ وہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کیا مال موجود ہو گا اور میں اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کروں گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1974
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7437، 7439، 12798، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1974، 1980، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6986، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 10209»