سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي مَالِ الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ حَتَّى يُعْتَقَ باب: مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تُصْدَقُ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَتَجْعَلُ لَهَا مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ ، وَلا يُرَى فِيهِ صَدَقَةٌ " .محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون کو ایک ہزار درہم دیے گئے، اس خاتون نے اس کے زیورات بنوا لیے، جو چار سو دینار کے بنے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک ان پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی تھی۔