سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي مَالِ الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ حَتَّى يُعْتَقَ باب: مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْهُ عَنْ طَوْقٍ لَهَا فِيهِ عِشْرُونَ مِثْقَالا مِنَ الذَّهَبِ ، فَقَالَتْ : أُزَكِّيهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : كَمْ ؟ قَالَ : خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، قَالَتْ : أُعْطِيَهَا فُلانًا ؟ ابْنُ أَخٍ لَهَا يَتِيمٌ فِي حِجْرِهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، إِنْ شِئْتِ " .ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے اپنے ایک ہار کے بارے میں دریافت کیا، جو بیس مثقال کا تھا اور سونے سے بنا ہوا تھا، اس خاتون نے دریافت کیا: ”کیا میں اس کی زکوٰۃ ادا کروں گی؟“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ اس خاتون نے دریافت کیا: ”کتنی؟“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”پانچ درہم۔“ اس خاتون نے دریافت کیا: ”کیا میں یہ فلاں شخص کو ادا کر دوں؟“ اس خاتون نے اپنے بھتیجے کے بارے میں دریافت کیا، جو یتیم تھا اور اس خاتون کے زیر پرورش تھا، تو سیدنا عبداللہ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو ایسا کر سکتی ہو۔“