سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي مَالِ الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ حَتَّى يُعْتَقَ باب: مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1962
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ ، ثنا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا سُرَيْجٌ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لامْرَأَتِي حُلِيًّا مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالا ، قَالَ : " فَأَدِّي زَكَاتَهُ نِصْفَ مِثْقَالٍ " . يَحْيَى بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ ، وَهَذَا وَهْمٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”میری بیوی کے بیس مثقال کے زیورات ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ان کی نصف مثقال زکوٰۃ ادا کرو۔“ اس روایت کا ایک راوی یحییٰ بن ابوانیسہ متروک ہے، اور یہ روایت وہم ہے، درست یہ ہے: یہ روایت مرسل ہے اور موقوف ہے۔