حدیث نمبر: 1959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْ عَنْ حُلِيٍّ لَهَا ، قَالَ : " إِذَا بَلَغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهِ الزَّكَاةُ " ، قَالَتْ : " إِنَّ فِي حِجْرِي بَنِي أَخٍ لِي أَفَأَضَعُهُ فِيهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . مَوْقُوفٌ.محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے ان سے اپنے زیورات کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”جب وہ دو سو (درہم جتنے قیمتی) ہوں، تو ان میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی۔“ اس خاتون نے کہا: ”میرے بھتیجے میرے زیر پرورش ہیں، کیا میں اسے ان پر خرچ کر دوں؟“ تو سیدنا عبداللہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ یہ روایت ’موقوف‘ ہے۔