حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ الرَّازِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ ، ثنا قَبِيصَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ لِي حُلِيًّا ، وَإِنَّ زَوْجِي خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ ، وَأَنَّ لِي بَنِي أَخٍ ، أَفَيُجْزِي عَنِّي أَنْ أَجْعَلَ زَكَاةَ الْحُلِيِّ فِيهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . هَذَا وَهْمٌ ، وَالصَّوَابُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”میرے پاس کچھ زیورات ہیں اور میرے شوہر غریب آدمی ہیں، میرے کچھ بھتیجے بھی ہیں، تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ میں ان زیورات کی زکوٰۃ ان لوگوں پر خرچ کر دوں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں!“ یہ روایت وہم ہے، درست یہ ہے: یہ روایت ابراہیم کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ سے مرسل اور موقوف روایت پر منقول ہے۔