حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدَيَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ؟ " ، فَقُلْتُ : صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ ؟ " ، فَقُلْتُ : لا أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " هُنَّ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ " . مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُولٌ.عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کنگن دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اے عائشہ! یہ کہاں سے آئے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ”انہیں میں نے بنایا ہے، تاکہ انہیں پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آؤں، یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے ان کی زکوٰۃ ادا کی ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”نہیں! (یا جو بھی اللہ نے چاہا)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے جہنم (میں عذاب ہونے) کے لیے کافی ہیں۔“ محمد بن عطاء نامی راوی مجہول ہے۔