سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى سِنَانٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ فِي كِتَابِهِ : " لا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ " ، قَالَ : فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ حَسْنَاءَ مُلَمْلَمَةٍ ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا ، وَقَالَ : مَا عُذْرِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذْتُ هَذِهِ مِنْ مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ قَالَ يَحْيَى : ثُمَّ سَمِعْتُ شَرِيكًا بَعْدُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، فَذَكَرْتُهُ لِوَكِيعٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ عُثْمَانَ.سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا ایک شخص آیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ: ”الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کیا جائے، زکوٰۃ (ادائیگی یا وصولی) سے بچنے کے لیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس کے بعد اس کے پاس ایک شخص بڑی اونٹنی لے کر آیا، جو بہت خوبصورت اور صحت مند تھی، تو اس نے اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ بولا: ”اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کر لیا، تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔