سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 1948
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْجَلابُ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِيشْ فِي كِتَابِكَ ؟ فَقَالَ : " أَنْ لا أُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلا أَجْمَعَ بَيْنَ مُفَرَّقٍ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا.محمد محی الدین
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا ایک شخص ہمارے پاس آیا، میں اس کے پاس بیٹھ گیا، میں نے اس سے دریافت کیا: ”تمہاری تحریر میں کیا لکھا ہے؟“ اس نے بتایا: ”اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کروں اور الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کروں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک شخص اس کے پاس اونچی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا، تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔