سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثنا هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ فِي عَهْدِي أَنْ لا آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ شَيْئًا ، قَالَ : وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ " . وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ ، فَقَالَ : خُذْ هَذِهِ ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا.سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص ہمارے پاس آیا، میں اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے اس بات کا پابند کیا گیا ہے: ”میں دودھ پلانے والا کوئی جانور وصول نہ کروں اور (زکوٰۃ کی وصولی کرتے ہوئے) الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کیا جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے پاس ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور بولا: ”تم اسے وصول کر لو۔“ اس نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔