سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 1946
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بِصَحِيفَةٍ فِيهَا مَسَائِلُ يَسْأَلُهُ عَنْهَا ، فَمَا تَتَعْتَعَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى أَتَى عَلَى أَرْبَعِينَ شَاةً بَيْنَ نَفَسَيْنِ ، فَقَالَ : " فِيهَا شَاةٌ عَلَيْهِمَا " .محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک شخص حسن بصری کے پاس ایک صحیفہ لے کر آیا، جس میں مختلف مسائل تحریر تھے، اس نے ان سے اس صحیفے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے ان مسائل میں کوئی غلطی نہیں نکالی، البتہ جب یہ مسئلہ آیا کہ چالیس بکریاں دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔“