سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 1945
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ النَّفْرِ الْخُلَطَاءِ لَهُمْ أَرْبَعُونَ شَاةً ، قَالَ : " عَلَيْهِمْ شَاةٌ " ، فَإِنْ كَانَتْ لِوَاحِدٍ تِسْعَةٌ وَثَلاثُونَ وَلِلآخَرِ شَاةٌ ، قَالَ : " عَلَيْهِمَا شَاةٌ " .محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا، جو ایک دوسرے کے حصے دار ہوں، ان کی چالیس بکریاں ہوں، تو ان سب پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، میں نے دریافت کیا: اگر ان میں سے ایک شخص کی ٣٩ بکریاں ہوں اور دوسرے شخص کی ایک بکری ہو؟ تو انہوں نے یہی فرمایا: ”ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔“