سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ تَفْسِيرِ الْخَلِيطَيْنِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّكَاةِ عَلَى الْخَلِيطَيْنِ باب: دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَذَكَرَ كَلامًا ، فَقَالَ : أَلا إِنِّي سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفَرَّقٍ ، وَالْخَلِيطَانِ مَا اجْتَمَعَ عَلَى الْحَوْضِ وَالرَّاعِي وَالْفَحْلِ " .سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، اس کے بعد انہوں نے کوئی کلام ذکر کیا، پھر انہوں نے یہ بھی بتایا: ایک دن انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(زکوٰۃ کی وصولی یا زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) اکٹھے مال کو الگ، الگ نہیں کیا جائے اور الگ، الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور دو حصے دار وہ لوگ ہوں گے، جو حوض، چرواہے اور (جفتی کے لیے دینے والے جانور کے بارے میں) حصے دار ہوں گے۔“