سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثنا مُوسَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبُزِّ صَدَقَتُهَا ، وَمَنْ دَفَعَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا أَوْ فِضَّةً لا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ ، وَلا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . كَتَبَهُ مِنَ الأَصْلِ الْعَتِيقِ ، وَفِي الْبُزِّ مُقَيَّدٌ.محمد محی الدین
مالک بن عوف بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور بز (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، جو شخص دینار، درہم، سونے کا ٹکڑا، چاندی اکٹھی کرے گا، جسے اس نے فرض کی ادائیگی کے لیے نہیں رکھا، یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے نہیں رکھا، تو یہ خزانہ شمار ہو گا، جس کے ذریعے قیامت کے دن اسے داغ لگایا جائے گا۔“