سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ عُثْمَانَ جَاءَهُ أَبُو عُلَيَّةَ ، فَقَالُ لَهُ عُثْمَانُ : كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ ؟ قَالَ : بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى سَارِيَةٍ ، فَقَامَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَاحْتَوَشُوهُ ، فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَوَشَهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا ذَرٍّ ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ " . قَالَهَا بِالزَّايِ.مالک بن اوس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اے ابوذر! آپ کا کیا حال ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ٹھیک ہوں۔“ پھر وہ ایک ستون کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے، لوگ بھی اٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گھیر لیا، میں بھی انہیں گھیرنے والوں میں شامل تھا، لوگوں نے کہا: ”اے ابوذر! آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیں۔“ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور کتان (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ لفظ ’ز‘ کے ساتھ ذکر کیا۔