سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَهْلِ الْيَمَنِ : " ائْتُونِي بِخَمْسٍ ، أَوْ لَبِيسٍ آخُذُ مِنْكُمْ فِي الصَّدَقَةِ ، فَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ " ، فَقَالَ عَمْرٌو : " ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ " . هَذَا مُرْسَلٌ ، طَاوُسٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اہل یمن سے یہ کہا تھا: ”تم میرے پاس خمیس یا لبیس لے کر آؤ، میں تم سے زکوٰۃ وصول کروں گا، یہ تمہارے لیے آسان بھی ہو گا اور مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین کے لیے پسندیدہ زیادہ بہتر رہے گا۔“ عمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم میرے پاس چوڑے کپڑے لے کر آؤ۔“ یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ طاؤس نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔