سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، ثنا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً " ، فَقَالُوا : فَالأَوْقَاصُ ؟ قَالَ : مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَهُ عَنِ الأَوْقَاصِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ " . قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاثِينَ وَمَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ ، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ فَفِيهَا تَبِيعَانِ ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلاثُ تَبَايِعَ ، قَالَ بَقِيَّةُ : قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : الأَوْقَاصُ هِيَ بِالسِّينِ أَوْقَاسُ ، فَلا تَجْعَلَهَا بِصَادٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ، ایک جذع یا ایک جذعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں۔ لوگوں نے دریافت کیا: گائے کے بچوں کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں گا۔“ پھر جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گائے کے بچھڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔“ مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں: اوقاس سے مراد یہ ہے جب ان کی تعداد تیس سے کم ہو، جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو، تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ ستر ہو جائیں گی، تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اسی ہو جائیں گی، تو اس میں دو مسنہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ نوے ہو جائیں گی، تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مسعودی فرماتے ہیں: لفظ اوقاص، ’س‘ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، تم اسے ’ص‘ کے ساتھ نہ لکھو۔