سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْرَقِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّفَّاحِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثنا ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، يَكُونُ ذَلِكَ فِي التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ " . فَأَمَّا الْقِثَّاءُ ، وَالْبِطِّيخُ ، وَالرُّمَّانُ ، وَالْقَصَبُ ، وَالْخَضِرُ ، فَعَفْوٌ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.موسیٰ بن طلحہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس زمین کو آسمان، بعل (پانی کے قریب کھجور کا درخت لگانا تاکہ وہ درخت خود ہی زیر زمین پانی سے سیراب ہو جائے) اور بہتے ہوئے پانی (یعنی نہر وغیرہ) کے ذریعے سیراب کیا جائے، اس میں عشر کی ادائیگی لازم قرار دی جائے گی اور جس زمین کو پانی چھڑک کر (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔ کھجور، گندم، دانوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی، البتہ ککڑی، تربوز، سیب، قصب اور دیگر سبزیوں میں یہ معاف ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف قرار دیا ہے۔“