حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْرَقِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّفَّاحِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثنا ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، يَكُونُ ذَلِكَ فِي التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ " . فَأَمَّا الْقِثَّاءُ ، وَالْبِطِّيخُ ، وَالرُّمَّانُ ، وَالْقَصَبُ ، وَالْخَضِرُ ، فَعَفْوٌ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین

موسیٰ بن طلحہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس زمین کو آسمان، بعل (پانی کے قریب کھجور کا درخت لگانا تاکہ وہ درخت خود ہی زیر زمین پانی سے سیراب ہو جائے) اور بہتے ہوئے پانی (یعنی نہر وغیرہ) کے ذریعے سیراب کیا جائے، اس میں عشر کی ادائیگی لازم قرار دی جائے گی اور جس زمین کو پانی چھڑک کر (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔ کھجور، گندم، دانوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی، البتہ ککڑی، تربوز، سیب، قصب اور دیگر سبزیوں میں یہ معاف ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف قرار دیا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب زكاة / حدیث: 1915
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف و منقطع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف و منقطع ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 891، وابن الجارود فى "المنتقى"، 378، 1183، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2268،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1453، 1462، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2449 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1576، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 623، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1663، 1664، 1665، 1709، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1803، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1916، 1905، 1928، 1936، 1937، 1938، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22433»
«قال ابن حجر: فيه ضعف وانقطاع ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 321)»