سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ باب: سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الصَّقْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ " . قَالَ الصَّقْرُ : الْجَبْهَةُ : الْخَيْلُ وَالْبِغَالُ وَالْعَبِيدُ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، ’عرایا‘ میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، عوامل میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی اور پیشانی میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“ صقر بن حبیب نامی راوی بیان کرتے ہیں: پیشانی سے مراد گھوڑا، خچر اور غلام ہے۔