سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابٌ: لَيْسَ فِي الْكَسْرِ شَيْءٌ باب: (سونے یا چاندی کے) ٹکڑے میں کوئی چیزلازم نہیں ہوگی
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا أبِي ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نَسِيٍّ ، عَنْ مُعَاذٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ : " أَنْ لا تَأْخُذَ مِنَ الْكَسْرِ شَيْئًا ، إِذَا كَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَخُذْ مِنْهَا خَمْسَةَ دَرَاهِمَ ، وَلا تَأْخُذْ مِمَّا زَادَ شَيْئًا حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا ، وَإِذَا بَلَغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَخُذْ مِنْهُ دِرْهَمًا " . الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، وَهُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُهُ الْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، وَكَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ يَقْلِبُ اسْمَهُ إِذَا رَوَى عَنْهُ ، وَعُبَادَةُ بْنُ نَسِيٍّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جب یمن بھیجا، تو انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ (سونے یا چاندی کے کسی) ٹکڑے میں سے کچھ بھی وصول نہ کریں، جب چاندی دو سو درہم جتنی ہو جائے، تو اس میں سے پانچ درہم وصول کر لیں، اس سے زیادہ میں اس وقت تک کچھ مزید وصولی نہ کریں، جب تک وہ چالیس درہم نہ ہو جائے، جب وہ چالیس درہم ہو جائے، تو پھر اس میں سے ایک درہم وصول کریں (یعنی ہر چالیس کے حساب سے ایک وصول کریں)۔ اس روایت کا ایک راوی منہال بن جراح متروک الحدیث ہے، اس کی کنیت ابوعطوف ہے، جبکہ اس کا نام جراح بن منہال ہے، ابن اسحاق نامی راوی نے اس کے نام کو الٹ نقل کر دیا ہے، اس روایت کے دوسرے راوی عبادہ بن نسی نے سیدنا معاذ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔