سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ وُجُوبِ زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالْمَاشِيَةِ وَالثِّمَارِ وَالْحُبُوبِ باب: سونے ‘ چاندی ‘ جانور ‘ پھلوں ‘ اناج میں زکوۃ کی فرضیت
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسِ ذَوْدٍ شَيْءٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ شَيْءٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالا مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ شَيْءٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ شَيْءٌ ، وَالْعُشْرُ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ ، وَمَا سُقِيَ سَيْحًا فَفِيهِ الْعُشْرُ ، وَمَا سُقِيَ بِالْغَرْبِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .عمرو بن شعیب اپنے والد، اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پانچ سے کم اونٹوں میں (زکوٰۃ کی) ادائیگی لازم نہیں ہوتی، چالیس سے کم بکریوں میں لازم نہیں ہوتی، تیس سے کم گائے میں ادائیگی لازم نہیں ہوتی، بیس مثقال سے کم سونے میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، دو سو درہم سے کم (چاندی) میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، پانچ وسق سے کم (اناج میں) کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، جبکہ عشر کھجور، انگور، گندم، جو میں سے وصول کیا جائے گا، جس کو قدرتی طریقے سے سیراب کیا جاتا ہے، اس میں عشر کی ادائیگی لازم ہو گی اور جس کو ڈول کے ذریعے (مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا ہے، اس میں عشر کے نصف حصے کی ادائیگی لازم ہو گی۔“