سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ وُجُوبِ زَكَاةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالْمَاشِيَةِ وَالثِّمَارِ وَالْحُبُوبِ باب: سونے ‘ چاندی ‘ جانور ‘ پھلوں ‘ اناج میں زکوۃ کی فرضیت
حدیث نمبر: 1897
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةِ دِرْهَمٍ زَكَاةٌ ، إِلا أَنْ يَشَاءَ صَاحِبُهَا ، وَإِذَا تَمَّتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ ، فَإِذَا زَادَتْ فَعَلَى نَحْوِ ذَلِكَ " .محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”١٩٠ درہم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو وہ کوئی ادائیگی کر سکتا ہے)، جب وہ پورے ٢٠٠ ہو جائیں گے، تو ان میں سے ٥ درہم کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اس سے زیادہ ہوں گے، پھر اسی حساب سے ادائیگی لازم ہو گی۔“