سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ وُجُوبِ الزَّكَاةِ بِالْحَوْلِ باب: سال گزرنے کے بعد زکوۃ فرض ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1894
ثنا ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الدَّرْبِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " لا زَكَاةَ فِي مَالٍ ، حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”مال میں زکوٰۃ اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ اپنے مالک کے پاس ایک سال نہ رہے۔“