سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ لِحَاجَةٍ باب: کسی کام کی وجہ سے قرأت کو مختصر کردینا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ وَلَعَلِّي لا أَجِدُ قَائِدًا ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اذان کی آواز سنتا ہوں، لیکن بعض اوقات مجھے ساتھ لے کر آنے والا کوئی شخص نہیں ہوتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اذان کی آواز سنو، تو اللہ کی طرف دعوت دینے والے شخص کی دعوت قبول کرو (یعنی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آؤ)۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِىُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اجْعَلُوا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ . هَذَا عِنْدِى هُوَ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ قَاضِى الْمَدَائِنِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ، کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں۔“