سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ لِحَاجَةٍ باب: کسی کام کی وجہ سے قرأت کو مختصر کردینا
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْكَعْبِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنٌ يُطْرِبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الأَذَانَ سَهْلٌ سَمْحٌ ، فَإِنْ كَانَ أَذَانُكَ سَمْحًا سَهْلا وَإِلا فَلا تُؤَذِّنْ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موذن تھا، جو طربیہ انداز میں اذان دیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان آسان اور نرمی کا کام ہے، اگر تم آسانی اور نرمی کے ساتھ اذان دے سکتے ہو، تو ٹھیک ہے، ورنہ اذان نہ دو۔“