سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ تَخْفِيفِ الْقِرَاءَةِ لِحَاجَةٍ باب: کسی کام کی وجہ سے قرأت کو مختصر کردینا
حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الأَئِمَّةِ طَرَّادِينَ " . زَادَ ابْنُ مَخْلَدٍ : قَالَ قَتَادَةُ : لا أَعْلَمُ الطَّرَّادِينَ ، إِلا الَّذِينَ يُطَوِّلُونَ عَلَى النَّاسِ ، حَتَّى يَطْرُدُونَهُمْ عَنْهُ.محمد محی الدین
سیدنا عباس جشمی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بعض امام بھگانے والے ہوتے ہیں۔“ اس روایت کے راوی قتادہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق یہاں بھگانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں، جو امامت کے دوران طویل قراءت کرتے ہیں، یہاں تک کہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے جائیں۔