حدیث نمبر: 1867
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَشَارَ فِي صَلاتِهِ إِشَارَةً تُفْهَمُ عَنْهُ فَلْيُعِدْ صَلاتَهُ " . قَالَ لَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ : أَبُو غَطَفَانَ هَذَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ ، وَآخِرُ الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ فِي الْحَدِيثِ وَلَعَلَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَالصَّحِيحُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلاةِ . رَوَاهُ أَنَسٌ ، وَجَابِرٌ ، وَغَيْرُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْحَسَنِ : وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ ، وَعَائِشَةُ أَيْضًا.
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص نماز کے دوران کوئی ایسا اشارہ کرے، جو سمجھ میں آ جائے، تو وہ شخص دوبارہ اپنی نماز ادا کرے گا۔“ اس روایت کا ایک راوی مجہول ہے، اور روایت کا آخری حصہ روایت میں اضافہ ہے، ہو سکتا ہے، یہ راوی کے الفاظ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات مستند طور پر ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اشارہ کر دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو سیدنا انس، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ شیخ ابوالحسن (یعنی امام دارقطنی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: اس روایت کو سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الجنائز / حدیث: 1867
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1203، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 422، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 894، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2262، 2263، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1206 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 939، 944، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 369، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1403، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1034، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1866، 1867، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 978، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7405»
«قال أحمد بن حنبل: لا يثبت إسناده ليس بشيء ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 291)»