سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ وَقَدْ جَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ هَلْ يَقْضِي أَمْ لَا باب: جس شخص پر مدہوشی طاری ہوجائے اور نماز کا بھی وقت ہوچکا ہو تو کیا وہ اس نماز کی قضاء اداکرے گایا نہیں ؟
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثنا مُسْلِمٌ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ فَلَمْ يَقْضِ " .محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ تین دن اور تین راتوں تک بے ہوش رہے، تو آپ نے اس دوران (قضاء ہو جانے والی نمازوں) کی قضاء نہیں کی۔