سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ وَقَدْ جَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ هَلْ يَقْضِي أَمْ لَا باب: جس شخص پر مدہوشی طاری ہوجائے اور نماز کا بھی وقت ہوچکا ہو تو کیا وہ اس نماز کی قضاء اداکرے گایا نہیں ؟
حدیث نمبر: 1862
وَعَنْ وَعَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِنْ يَوْمَيْنِ فَلَمْ يَقْضِهِ " .محمد محی الدین
ایک اور سند کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دو دن سے زیادہ عرصے تک بے ہوش رہے، تو انہوں نے (اس دوران گزر جانے والی) نمازوں کی قضاء نہیں کی۔