سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ وَقَدْ جَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ هَلْ يَقْضِي أَمْ لَا باب: جس شخص پر مدہوشی طاری ہوجائے اور نماز کا بھی وقت ہوچکا ہو تو کیا وہ اس نماز کی قضاء اداکرے گایا نہیں ؟
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا دَعْلَجٌ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سُفْيَانَ ، ثنا حَبَّانُ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ أُغْمِيَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَلَيْلَةً فَلَمْ يَقْضِ " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ وہ ایک دن اور ایک رات بے ہوش رہے، تو انہوں نے اس دوران کی نمازوں کی قضاء نہیں کی۔