سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ وَقَدْ جَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ هَلْ يَقْضِي أَمْ لَا باب: جس شخص پر مدہوشی طاری ہوجائے اور نماز کا بھی وقت ہوچکا ہو تو کیا وہ اس نماز کی قضاء اداکرے گایا نہیں ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا خَارِجَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِخْرَاقٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الأَيْلِيِّ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ فَيَتْرُكَ الصَّلاةَ ، فَقَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ قَضَاءٌ ، إِلا أَنْ يُغْمَى عَلَيْهِ فِي وَقْتِ صَلاةٍ ، فَيَفِيقُ وَهُوَ فِي وَقْتِهَا فَيُصَلِّيهَا " . لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ إِلا أَنَّ خَارِجَةَ ، قَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الْحَكَمِ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا، جس پر مدہوشی طاری ہو جاتی ہے اور وہ نماز چھوڑ دیتا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”ایسے شخص پر قضاء لازم نہیں ہو گی، قضاء اس وقت لازم ہو گی، جب کسی شخص کو کسی نماز کے وقت کے دوران اس پر بے ہوشی طاری ہو اور پھر اسی وقت کے دوران اسے ہوش آ جائے، تو وہ شخص اس نماز کو ادا کرے گا۔“ اس روایت کے دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں، تاہم سند میں کچھ فرق ہے۔