سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الرَّجُلِ يُغْمَى عَلَيْهِ وَقَدْ جَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ هَلْ يَقْضِي أَمْ لَا باب: جس شخص پر مدہوشی طاری ہوجائے اور نماز کا بھی وقت ہوچکا ہو تو کیا وہ اس نماز کی قضاء اداکرے گایا نہیں ؟
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى عَمَّارٍ " أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَأَفَاقَ نِصْفَ اللَّيْلِ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ " .محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے غلام یزید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پر مدہوشی طاری ہو گئی، جو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کے وقت تک برقرار رہی، نصف رات کے وقت جب ان کو ہوش آیا، تو انہوں نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔