حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، ثنا عِيسَى بْنُ يُوسُفَ بْنِ الطَّبَّاعِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ؟ قُلْنَا : مَا أَطَقْنَا ، قَالَ : " كَانَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا " .
محمد محی الدین

عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟“ ہم نے عرض کی: ہم طاقت نہیں رکھتے (لیکن آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں)، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا عصر کے وقت غروب ہونے کی جگہ سے دور ہوتا ہے، اس وقت آپ دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر آپ انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا غروب ہونے کے مقام سے دور ہوتا (یعنی زوال کا وقت ہو جاتا)، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت ادا کرتے، ظہر کے بعد آپ دو رکعت سنت ادا کرتے اور پھر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الجنائز / حدیث: 1858
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1211،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 873 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 330، 333، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 424، 429، 598، 599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1161، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1858، 1857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 660»