سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ جَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يَلْزَمُ الْمُغْمَى عَلَيْهِ مِنَ الْقَضَاءِ وَوَقْتِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ باب: نماز کے دوران قلیل عمل کا جواز
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا عَمِّي ، ثنا مُسَدَّدٌ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ ، فَمَشَى فَفَتَحَ لِي ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلاهُ " ، وَذَكَرَتْ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے اور دروازہ بند ہوتا، میں دوران میں آتی اور دروازہ کھولنے کے لیے کہتی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے آتے اور میرے لیے دروازہ کھول دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جائے نماز پر تشریف لے جاتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات ذکر کی تھی کہ وہ دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔