حدیث نمبر: 1852
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى عَلَى سَبْعِ جَنَائِزَ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ ، فَجَعَلَ الرِّجَالَ مِمَّا يَلِيهِ وَالنِّسَاءَ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ، وَصَفَّهُمْ صَفًّا وَاحِدًا ، وَقَالَ : وَوَضَعَ جِنَازَةَ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَابْنٍ يُقَالُ لَهُ : زَيْدُ بْنُ عُمَرَ ، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ ، وَأَبُو قَتَادَةَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : السُّنَّةُ " .
محمد محی الدین

نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سات افراد کی نماز جنازہ ایک ساتھ پڑھائی، جن میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی، تو آپ نے مردوں کو اپنے آگے رکھا اور خواتین کو قبلہ والی سمت میں رکھا، آپ نے ان سب کے لیے ایک ہی صف بنائی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحبزادے کی میت رکھی گئی۔ ان صاحبزادے کا نام زید بن عمر تھا۔ ان دنوں سیدنا سعید بن العاص گورنر تھے اور حاضرین میں سیدنا عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دریافت کیا: یہ کیا طریقہ ہے؟ انہوں نے بتایا: ”یہ سنت ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الجنائز / حدیث: 1852
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 596، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1977، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2116، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7020، 7053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1852، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6331، 6336، 6337، 6340، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11682، 11695»
«قال ابن حجر: إسناده صحيح ، عون المعبود شرح سنن أبي داود: (3 / 183)»