سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ باب: قبرپر (نماز جنازہ) ادا کرنا
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ يُجَاءُ بِقَتْلَى أُحُدٍ تِسْعَةٌ وَحَمْزَةُ عَاشِرُهُمْ فَيُصَلِّي عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يُدْفَنُونَ تِسْعَةً وَيَدَعُونَ حَمْزَةَ ، وَيُجَاءُ بِتِسْعَةٍ وَحَمْزَةُ عَاشِرُهُمْ ، فَيُصَلِّي عَلَيْهِمْ فَيَرْفَعُونَ التِّسْعَةَ وَيَدَعُونَ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " .سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ احد میں شریک ہونے والے نو افراد کو لایا گیا، ان کے ساتھ دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی نماز جنازہ ادا کی، پھر ان نو افراد کو دفن کر دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دفن نہیں کیا گیا، پھر نو مزید افراد کو لایا گیا، ان کے ساتھ دسویں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کی بھی نماز جنازہ ادا کی، پھر ان نو افراد کو دفن کر دیا گیا اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دفن نہیں کیا گیا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ بار بار ادا کی)۔