سنن الدارقطني
كتاب الجنائز— جنازوں کا بیان
بَابُ وَضْعِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى وَرَفْعِ الْأَيْدِي عِنْدَ التَّكْبِيرِ باب: (نماز جنازہ کے دوران) دایاں ہاتھ بائیں پر رکھنا ‘ تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کرنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : جَاءَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَحْضُرَهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْكَبْ دَابَّتَكَ وَسِرْ أَمَامَهَا ، فَإِنَّكَ إِذَا كُنْتَ أَمَامَهَا لَمْ تَكُنْ مَعَهَا " . أَبُو مَعْشَرٍ ضَعِيفٌ.عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے بتایا: ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جو عیسائی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ اپنی والدہ کی آخری رسومات میں شریک ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی سواری پر سوار ہو جاؤ اور جنازے کے آگے چلو، اگر تم اس کے آگے چل رہے ہوگے، تو تم اس کے ساتھ شمار نہیں ہوگے۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) یہ روایت ثابت نہیں ہے، اس روایت کا ایک راوی معشر ضعیف ہے۔